🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
301. -- باب: الغسل من غسل الميت
-- باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1452
كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَمَّكَ الضَّالَّ قَدْ هَلَكَ قَالَ:" فَانْطَلِقْ فَوَارِهِ" فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِمُوَارِيهِ قَالَ:" فَمَنْ يُوَارِيهِ؟" انْطَلِقْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي" فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ، ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ وَلَا يَسُرُّنِي بِهَا مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ" وَرَوَاهُ أَيْضًا الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَشَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيٍّ وَنَاجِيَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسَدِيُّ لَمْ تَثْبُتْ عَدَالَتُهُ عِنْدَ صَاحِبَيِ الصَّحِيحِ وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ غَسَّلَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: حَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُوَارِيَ أَبَا طَالِبٍ لَمْ نَجِدْهُ إِلَّا عِنْدَ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَفِي إِسْنَادِهِ بَعْضُ الشَّيْءِ، رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْ نَاجِيَةَ غَيْرَ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ عَلِيٍّ هَكَذَا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابوطالب فوت ہو گئے تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا گمراہ چچا فوت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اس کو کسی گڑھے میں چھپا دے“، میں نے کہا: میں اس کو نہیں چھپاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون اس کو چھپائے گا؟ جا اس کو چھپا دے، کسی کو کچھ نہ بتانا، پھر میرے پاس آ جانا“۔ میں چلا، میں نے ان کی میت کو چھپا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ میں غسل کروں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اور اس دعا سے میں اتنا خوش ہوا کہ زمین پر کسی چیز سے اتنا خوش نہیں ہوا تھا۔ (ب) ناجیہ بن کعب اسدی کی عدالت امام بخاری و مسلم کے ہاں ثابت نہیں اور نہ ہی یہ الفاظ «أَنَّهُ غَسَّلَهُ» ”کہ اس نے اسے غسل دیا“ (ثابت ہیں)۔ (ج) امام علی بن مدینی کہتے ہیں کہ حدیثِ علی رضی اللہ عنہ جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابوطالب کو چھپانے کا حکم دیا، ہمیں صرف اہل کوفہ سے ملی اور اس کی سند میں قابل گرفت چیزیں ہیں۔ ناجیہ سے ابو اسحاق نے روایت کیا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ابو اسحاق کے علاوہ کسی دوسرے نے ناجیہ سے روایت کیا ہو۔ (د) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے یہی روایت اسی طرح بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1452]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد 3214»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1452 in Urdu