السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2976. -- باب: إتيان دعوة الوليمة حق
-- باب: اس بیان میں کہ ولیمے کی دعوت میں شریک ہونا حق (لازم) ہے۔
حدیث نمبر: 14521
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ حَدَّثْتَ: شَرُّ الطَّعَامِ، طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ؟ فَضَحِكَ وَقَالَ: لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ فَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْرَجُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُمْنَعُهَا الْمَسَاكِينُ وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ" وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ وَرُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ..
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے کہا: اے ابوبکر! آپ نے یہ حدیث کیسے بیان کی کہ بدترین کھانا مالدار لوگوں کا کھانا ہے؟ وہ ہنس پڑے اور فرمانے لگے: حدیث یہ نہیں ہے کہ بدترین کھانا مالدار لوگوں کا کھانا ہے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا باپ غنی تھا، مجھے اس حدیث نے گھبراہٹ میں ڈال دیا، کہتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے اعرج رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کا وہ کھانا جس میں مالدار لوگوں کو بلایا جائے اور فقرا کو چھوڑ دیا جائے بدترین ہے اور جس نے دعوت کو قبول نہ کیا اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14521]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال ابن الجوزي في العلل 1032»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14521 in Urdu