السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2981. -- باب: من استعفى فإن لم يعف أجاب
-- باب: اس شخص کا بیان جو (دعوت میں شرکت سے) معذرت طلب کرے، پھر اگر اسے معاف نہ کیا جائے تو وہ دعوت قبول کر لے۔
حدیث نمبر: 14541
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا أَدْرِي عَنْ عَطَاءٍ، أَوْ غَيْرِهِ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ ابْنِ صَفْوَانَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يُعَالِجُ زَمْزَمَ يَدْعُوهُ وَأَصْحَابَهُ فَأَمَرَهُمْ فَقَامُوا وَاسْتَعْفَاهُ وَقَالَ:" إِنْ لَمْ يُعْفِنِي جِئْتُهُ".
حضرت عطاء یا کوئی دوسرا کہتا ہے کہ ابن صفوان کا قاصد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو وہ زمزم کے انتظام میں مشغول تھے۔ اس نے ان کو اور ان کے شاگردوں کو دعوت دی تو انہوں نے شاگردوں کو روانہ کر دیا اور خود اس سے معذرت کی اور کہا: اگر وہ میری معذرت قبول نہ کریں تو میں بھی آ جاؤں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14541]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14541 in Urdu