السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2982. -- باب: من لم يدع ثم جاء فأكل لم يحل له ما أكل إلا بأن يحل له صاحب الوليمة
-- باب: اس شخص کا بیان جسے دعوت نہ دی گئی ہو، پھر وہ آ کر کھا لے تو اس کے لیے وہ کھانا حلال نہیں ہے الا یہ کہ ولیمے والا (میزبان) اسے اس کے لیے حلال کر دے۔
حدیث نمبر: 14546
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّفَّاحُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدَّارِكِيُّ، ثنا جَدِّي أَبُو عَلِيٍّ ⦗٤٣٣⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارِكِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ مُغِيرًا وَخَرَجَ سَارِقًا" وَزَادَ الْبَحْرَانِيُّ فِي أَوَّلِهِ: الْوَلِيمَةُ حَقٌّ، مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِيَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بغیر دعوت آیا وہ ڈاکو بن کر داخل ہوا اور چور بن کر نکلا۔“
(ب) بحرانی نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے کہ ”ولیمہ حق ہے، جس نے ولیمہ کی دعوت کو قبول نہ کیا اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14546]
(ب) بحرانی نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے کہ ”ولیمہ حق ہے، جس نے ولیمہ کی دعوت کو قبول نہ کیا اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14546]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14546 in Urdu