السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2988. -- باب: ما جاء في تستير المنازل
-- باب: گھروں میں پردے لٹکانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14588
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، نا أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الضَّبِّيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شَرَفًا، وَأَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةَ، لَا تُصَلُّوا خَلْفَ نَائِمٍ وَلَا مُتَحَدِّثٍ، وَاقْتُلُوا الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ وَإِنْ كُنْتُمْ فِي صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ بِالثَّوْبِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي الْمِقْدَامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَلَمْ يَثْبُتْ فِي ذَلِكَ إِسْنَادٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کے لیے ایک شرف ہوتا ہے اور تمام مجالس سے شرف والی مجلس وہ ہے جس کے ذریعے قبلہ کی طرف متوجہ ہوا جاتا ہے۔ تم سونے والے اور باتیں کرنے والے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو اور تم سانپ اور بچھو کو نماز کی حالت میں قتل کر دو اور دیواروں پر پردے نہ لٹکاؤ۔“
یہ ایک دوسری منقطع سند سے بھی مروی ہے، اور اس بارے میں کوئی سند ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14588]
یہ ایک دوسری منقطع سند سے بھی مروی ہے، اور اس بارے میں کوئی سند ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14588]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14588 in Urdu