السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3015. -- باب: اختناث الأسقية وما يكره من ذلك
-- باب: مشکیزوں کے منہ موڑ کر پینے اور اس کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14661
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الِاخْتِنَاثُ أَنْ تُثَنَّى أَفْوَاهُهَا ثُمَّ يُشْرَبُ مِنْهَا.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مشکیزوں کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔“
اصمعی کہتے ہیں کہ «اِخْتِنَاث» مشک کے منہ کو دوہرا کر کے اس سے پیا جائے یا مشک کے منہ کو اوپر کی جانب موڑ کر اس سے پیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14661]
اصمعی کہتے ہیں کہ «اِخْتِنَاث» مشک کے منہ کو دوہرا کر کے اس سے پیا جائے یا مشک کے منہ کو اوپر کی جانب موڑ کر اس سے پیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14661]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2023»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14661 in Urdu