السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3019. -- باب: الدعاء لرب الطعام
-- باب: کھانا کھلانے والے (میزبان) کے لیے دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q14673
قَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَ عَلَى أَبِيهِ وَقَالَ: ادْعُ لَنَا، فَقَالَ:" اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ".
ہمیں سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے والد کے ہاں (مہمان بن کر) تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا: ”ہمارے لیے دعا فرمائیے۔“
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت عطا فرما، اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: Q14673]
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت عطا فرما، اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: Q14673]
حدیث نمبر: 14673
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ ⦗٤٦٨⦘ اللهِ قَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ، وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ، فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو فرمایا: ” «السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“”تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے کہا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”اور تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو“ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے تین مرتبہ ہی جواب دیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہما بھی پیچھے چلے اور کہا: میرے والد آپ پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی سلام کیا، میرے ان کانوں نے سنا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب بھی دیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنوایا نہیں؛ کیونکہ میں پسند کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلامتی اور برکت کی دعا کی کثرت چاہتا تھا۔ پھر وہ گھر میں داخل ہوئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے منقہ رکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ” «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» ”نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعا کی اور روزے داروں نے تمہارے پاس افطار کیا۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14673]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14673 in Urdu