السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3020. -- باب: ما جاء في النثار في الفرح
-- باب: خوشی کے موقع پر نچھاور کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14685
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ وَهُوَ الَّذِي يَلِيهِ" قَالَ: فَقَدَّمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٍ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ" إِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّهُ يُفَارِقُ النِّثَارَ فِي الْمَعْنَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں سب سے بڑا دن قربانی کا دن ہے، پھر یوم القر ہے، اور وہ اس کے بعد والا دن ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ لائے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس سے ابتدا کرتے ہیں، جب قربانیاں پہلو کے بل گر پڑیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی بات کہی جسے میں سمجھ نہ سکا، میں نے اپنے پاس والے سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے کاٹ کر لے لے۔“
اس کی سند حسن ہے، البتہ یہ معنی میں نثار (بکھیرنے) سے مختلف ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14685]
اس کی سند حسن ہے، البتہ یہ معنی میں نثار (بکھیرنے) سے مختلف ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14685]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14685 in Urdu