السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3021. -- باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول
-- باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14690
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو حَاتِمِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُوَيْسِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَاسًا يُغَنُّونَ فِي عُرْسٍ وَهُمْ يَقُولُونَ:.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کے موقع پر لوگوں کو گاتے ہوئے سنا کہ اس عورت کو خاوند نے مینڈھے تحفے میں دیے ہیں جنہیں باڑے میں ٹھہرایا گیا ہے اور تیری محبت لوگوں میں سے ایسے انسان کے ساتھ ہے جو کل کی بات کو جانتا ہے۔
یحییٰ کہتے ہیں: تیرا خاوند ایسا انسان ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل کی بات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14690]
یحییٰ کہتے ہیں: تیرا خاوند ایسا انسان ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل کی بات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14690]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14690 in Urdu