السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3021. -- باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول
-- باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14692
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: شَهِدْتُ ثَابِتَ بْنَ وَدِيعَةَ وَقَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا غِنَاءٌ، فَقُلْتُ لَهُمَا فِي ذَلِكَ فَقَالَا:" إِنَّهُ قَدْ رُخِّصَ فِي الْغِنَاءِ فِي الْعُرْسِ وَالْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ فِي غَيْرِ نِيَاحَةٍ" وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
عامر بن سعد بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ثابت بن ودیعہ اور سیدنا قرظہ بن کعب انصاری رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک شادی میں موجود تھا جس میں گانا گایا جا رہا تھا تو میں نے ان دونوں سے کہا تو وہ فرمانے لگے: ”شادی کے موقع پر گانے میں رخصت دی گئی ہے اور میت پر بغیر نوحہ کے رونے کی اجازت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14692]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 1221»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14692 in Urdu