السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3021. -- باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول
-- باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14695
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْعَنَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَالدُّفُّ فِي النِّكَاحِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَدْ زَعَمَ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ الدُّفَّ لُغَةً، وَالْخَبَرُ بِالْفَتْحِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ الصَّوْتُ فَبَعْضُ النَّاسِ يَذْهَبُ بِهِ إِلَى السَّمَاعِ وَهَذَا خَطَأٌ وَفِيمَا مَعْنَاهُ عِنْدَنَا إِعْلَانُ النِّكَاحِ وَاضْطِرَابُ الصَّوْتِ بِهِ وَالذِّكْرُ فِي النَّاسِ وَلِذَلِكَ قَالَ عُمَرُ.
ہشیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دف بجانا نکاح کے موقع پر ہے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ «الدُّفُّ» لغوی اعتبار سے اور «الْخَبَرُ» فتح کے ساتھ لیکن «الصَّوْتُ» یعنی لوگوں کے نزدیک «السَّمَاعُ» مراد ہے، یہ غلطی ہے؛ ہمارے نزدیک اس کا معنی نکاح کا اعلان، آواز پیدا کرنا اور لوگوں میں شہرت کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14695]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14695 in Urdu