السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3026. -- باب: ما جاء في بيان حقه عليها
-- باب: عورت پر شوہر کے حق کے بیان میں وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ:" لَا تَمْنَعُهُ نَفْسَهَا وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ، وَلَا تُعْطِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَيْهَا الْوِزْرُ، وَلَا تَصُومُ يَوْمًا تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ أَثِمَتْ وَلَمْ تُؤْجَرْ وَلَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ مَلَائِكَةُ الْغَضَبِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ حَتَّى تَتُوبَ أَوْ تُرَاجِعَ" قِيلَ: فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَ ظَالِمًا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے پوچھا: خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اگرچہ وہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو اور گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے، اگر تم نے کیا تو خاوند کو اجر اور تم کو گناہ ملے گا اور ایک دن کا نفلی روزہ بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ اگر ایسا کرو گی تو گناہ گار ہو گی، اجر بھی نہ ملے گا اور خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے بھی نہ نکلے۔ اگر ایسا کرو گی تو غضب کے فرشتے اور رحمت کے فرشتے اس کے توبہ کرنے یا واپس آنے تک لعنت کرتے رہیں گے۔“ کہا گیا: اگر خاوند ظالم ہی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14713]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14713 in Urdu