السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3037. -- باب: الحال التي يختلف فيها حال النساء
-- باب: اس صورت حال کا بیان جس میں عورتوں (بیویوں کی باری) کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، نا رَوْحٌ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ، نا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ⦗٤٩٢⦘ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُخْبِرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا، وَيَقُولُونَ: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ، حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمْ فِي الْحَجِّ فَقَالُوا: تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ، فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَدَّقُوهَا فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَقُلْتُ: مَا مِثْلِي تُنْكَحُ، أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، فَقَالَ:" أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ" فَتَزَوَّجَهَا فَجَعَلَ يَأْتِيهَا فَيَقُولُ:" كَيْفَ زُنَابُ؟ أَيْنَ زُنَابُ؟" فَجَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَاخْتَلَجَهَا فَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" فَقَالَتْ قُرَيْبَةُ ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا: أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ"، قَالَتْ: فَوَضَعْتُ ثِقَالِي، وَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ وَكَانَتْ فِي جَرٍّ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: فِي جَرِيبٍ - وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ فَبَاتَ ثُمَّ أَصْبَحَ فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ:" إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ أُسَبِّعْ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي".
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ جب وہ مدینہ آئیں تو (لوگوں کو) بتایا گیا کہ وہ ابو امیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں تو انھوں نے اس کی تکذیب کر دی۔ وہ کہنے لگے: یہ پردیسی عورتیں کتنا جھوٹ بولتی ہیں! یہاں تک کہ ان کے کچھ لوگ حج کرنے آئے تو انھوں نے کہا کہ تم اپنے اہل کو لکھو، تو انہوں نے ان کے ہاتھ خط لکھ دیا۔ جب وہ مدینہ آئے تو انھوں نے اس کی تصدیق کر دی، وہ عزت و مرتبہ کے اعتبار سے اور بڑھ گئیں۔ فرماتی ہیں: جب میں نے بچی کو جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے عرض کی: مجھ جیسی سے نکاح نہیں کیا جاتا، اب مجھ سے اولاد نہیں ہوگی، اور میں بڑی غیرت مند اور عیال دار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آپ سے عمر میں بڑا ہوں، رہی غیرت تو اللہ اس کو ختم فرما دیں گے اور رہے عیال تو یہ اللہ اور رسول کے لیے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کر لی۔ جب ان کے پاس آتے تو فرماتے: ”زینب کیسی ہے؟ زینب کہاں ہے؟“ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما آئے اور اس (بچی) کو جھپٹ کر لے گئے اور کہنے لگے: اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا ہوا ہے۔ وہ اس کو دودھ پلا رہی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا: ”زینب کہاں ہے؟“ تو قریبہ بنت ابی امیہ کہنے لگی، جو اس کے قریب کھڑی تھی کہ اس کو عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہما) نے لے لیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں رات کے وقت آؤں گا۔“ (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں: میں نے اپنی چکی رکھی اور جو کے کچھ دانے نکالے جو ایک مٹکے میں تھے، اور ابو عبداللہ کی روایت میں ہے: ایک تھیلے میں، اور میں نے چربی نکالی اور اس کا عصیدہ (حلوہ) بنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات گزار کر صبح کی تو فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کے نزدیک معزز ہو، اگر تم چاہو تو میں سات دن تیرے پاس گزارتا ہوں۔ اگر میں نے سات دن گزارے تو دوسری عورتوں کے پاس بھی سات دن ہی گزاروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14760 in Urdu