السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3050. -- باب: ذب الرجل عن ابنته في الغيرة والإنصاف
-- باب: غیرت اور انصاف کے معاملے میں مرد کا اپنی بیٹی کی طرف سے دفاع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14798
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يَنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، إِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہتے ہیں۔ میں ان کو اجازت نہیں دوں گا، میں اجازت نہیں دوں گا، میں اجازت نہیں دوں گا؛ لیکن اگر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں۔ کیونکہ وہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے پریشان کیا اس نے مجھے پریشان کیا، جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14798]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه 99»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14798 in Urdu