السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3058. -- باب: الوجه الذي تحل به الفدية
-- باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14842
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ السَّلُولِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ بُغْضًا وَأَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ:" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا مَا سَاقَ إِلَيْهَا وَلَا يَزْدَادُ ⦗٥١٣⦘ كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مَوْصُولًا وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْهُ.
(١٤٨٤٢) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی۔ اس نے کہا: میرے ماں، باپ آپ پر قربان! میں ثابت بن قیس بن شماس کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی۔ لیکن میں بغض کی بھی طاقت نہیں رکھتی اور اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں، آپ نے پوچھا: کیا تو اسے اس کا باغ لوٹا دے گی؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا: جو مال دیا ہے وہ واپس لے لو زیادہ نہیں لینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14842]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14842 in Urdu