السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3058. -- باب: الوجه الذي تحل به الفدية
-- باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14849
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، نا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ، كَانَتْ عِنْدَهُ زَيْنَبُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ وَكَانَ أَصْدَقَهَا حَدِيقَةً فَكَرِهَتْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَعْطَاكِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا وَلَكِنْ حَدِيقَتَهُ" فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَهَا لَهُ وَخَلَّى سَبِيلَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ قَضَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهُ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں زینب بنت عبداللہ بن ابی بن سلول رضی اللہ عنہا تھی۔ اس کا حقِ مہر ایک باغ تھا، اس کو خاوند اچھا نہ لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس نے باغ تجھے دیا ہے کیا تو واپس کرتی ہے؟“ کہنے لگی: باغ اور کچھ زیادہ بھی دوں گی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف باغ واپس کرو زیادہ نہیں“ تو کہتی ہے: ہاں۔ اس سے خاوند نے باغ لے لیا اور طلاق دلوا دی۔ جب سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کا علم ہوا تو اسے قبول کر لیا۔
ابوزبیر رحمہ اللہ نے یہ روایت کئی لوگوں سے سنی ہے، اور یہ بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14849]
ابوزبیر رحمہ اللہ نے یہ روایت کئی لوگوں سے سنی ہے، اور یہ بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14849]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14849 in Urdu