السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3062. -- باب: الخلع هل هو فسخ أو طلاق
-- باب: خلع، کیا یہ فسخِ نکاح ہے یا طلاق؟ اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 14863
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَأَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلَاقَ فِي أَوَّلِ الْآيَةِ وَآخِرِهَا وَالْخُلْعَ بَيْنَ ذَلِكَ فَلَيْسَ الْخُلْعُ بِطَلَاقٍ، يَنْكِحُهَا" وَرَوَاهُ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا، وَرَوَى الشَّافِعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ أَجَازَهُ الْمَالُ فَلَيْسَ بِطَلَاقٍ.
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا جس کو خاوند نے دو طلاقیں دے دیں، پھر عورت نے خاوند سے خلع کر لیا تو کیا خاوند اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی آیت میں اللہ نے طلاق کا ذکر کیا اور اس کے آخر میں اور درمیان میں خلع کا تذکرہ ہے، تو خلع طلاق نہیں ہے، وہ نکاح کر سکتا ہے۔
(ب) عمرو رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ہر وہ چیز جو مال کے ذریعے حلال ہو وہ طلاق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14863]
(ب) عمرو رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ہر وہ چیز جو مال کے ذریعے حلال ہو وہ طلاق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14863]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14863 in Urdu