🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3070. -- باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة
-- باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14941
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: أَمَّا أَنْتَ لَوْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ لَا رَجْعَةَ فِي الثَّلَاثِ وَإِنَّمَا الرَّجْعَةُ فِي الْمَرَّةِ وَالْمَرَّتَيْنِ يَعْنِي فِي التَّطْلِيقَةِ وَالتَّطْلِيقَتَيْنِ، وَقَوْلُهُ: وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، يَعْنِي حِينَ طَلَّقْتَهَا فِي حَالِ الْحَيْضِ فَيَكُونُ قَوْلُهُ هَذَا رَاجِعًا إِلَى أَصْلِ الْمَسْأَلَةِ، وَأَمَّا التَّفْصِيلُ فَإِنَّهُ لِأَجْلِ إِثْبَاتِ الرَّجْعَةِ وَقَطْعِهَا لَا لِتَعْلِيقِ الْمَعْصِيَةِ بِأَحَدِهِمَا دُونَ الْآخَرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا قَوْلُهُ فِي رِوَايَةِ نَافِعٍ: ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ الِاسْتِبْرَاءِ أَنْ يَكُونَ يَسْتَبْرِئُهَا بَعْدَ الْحَيْضَةِ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا بِطُهْرٍ تَامٍّ ثُمَّ حَيْضٍ تَامٍّ؛ لِيَكُونَ تَطْلِيقُهَا وَهِيَ تَعْلَمُ عِدَّتَهَا الْحَمْلُ هِيَ أَمِ الْحَيْضُ؛ وَلِيَكُونَ يُطَلِّقُ بَعْدَ عِلْمِهِ بِحَمْلٍ وَهُوَ غَيْرُ جَاهِلٍ بِمَا صَنَعَ أَوْ يَرْغَبُ فَيُمْسِكُ لِلْحَمْلِ وَلِيَكُونَ إِنْ كَانَتْ سَأَلَتِ الطَّلَاقَ غَيْرَ حَامِلٍ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُ حَامِلًا، ثُمَّ سَاقَ كَلَامَهُ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّ غَيْرَ نَافِعٍ إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى تَطْهُرَ مِنَ الْحَيْضَةِ ⦗٥٤٢⦘ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ خِلَافَ رِوَايَةِ نَافِعٍ قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ فِي ذَلِكَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مُخْتَلِفَةٌ، فَأَمَّا عَنْ غَيْرِهِ فَعَلَى مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تم ایک یا دو مرتبہ طلاق دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی کا حکم دیا تھا۔“
(ب) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے: ”رہے تم، اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی حکم دیا تھا؛ اور اگر تم نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے تم پر حرام ہے اور تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا ہے۔“ یعنی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہے اور رجوع صرف ایک یا دو طلاقوں کے بعد ہوتا ہے۔
اور ان کا قول: «وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ» ”اور آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی“، یعنی جب آپ نے حالتِ حیض میں طلاق دی، تو یہ بات اصل مسئلہ کی طرف لوٹتی ہے، اور (ایک دو اور تین کی) تفصیل رجوع کے ثابت ہونے یا ختم ہونے کے لیے ہے، نافرمانی کو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ خاص کرنے کے لیے نہیں ہے۔
نافع کی روایت: «ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلُهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا» ”پھر وہ اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آئے، پھر اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو جائے“؛ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ اس سے استبراءِ رحم مراد ہو جو ایک مکمل طہر اور مکمل حیض سے ہو تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی عدت وضعِ حمل ہے یا حیض، اور وہ یا تو حمل کا علم ہونے کے بعد طلاق دے یا حمل کی وجہ سے روک لے، اور اگر اس عورت نے حمل نہ ہونے کی حالت میں طلاق کا مطالبہ کیا تھا تو حاملہ ہونے پر وہ اس مطالبے سے رک جائے۔ نافع کے علاوہ دوسرے راوی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ جس حیض میں طلاق دی وہ اس سے پاک ہو جائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14941]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14941 in Urdu