🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3072. -- باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14987
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَلَّقَ رُكَانَةُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟" قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ:" فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ" فَرَاجَعَهَا فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَرَى إِنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ فَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا النَّاسُ وَالَّتِي أَمَرَ اللهُ لَهَا {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ نا مُسْلِمُ بْنُ عِصَامٍ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ نا عَمِّي نا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ فَذَكَرَهُ وَهَذَا الْإِسْنَادُ لَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ مَعَ ثَمَانِيَةٍ رَوَوْا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فُتْيَاهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ وَمَعَ رِوَايَةِ أَوْلَادِ رُكَانَةَ أَنَّ طَلَاقَ رُكَانَةَ كَانَ وَاحِدَةً وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس پر وہ بڑے پریشان ہوئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے اسے کیسے طلاق دی تھی؟“ رکانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تین طلاقیں دی تھیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ایک ہی مجلس میں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ہی ہے، اگر تو چاہے تو رجوع کر لے۔“ چنانچہ انہوں نے رجوع کر لیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق طہر کے موقع پر دی جائے گی، یہ وہ طریقہ ہے جس پر لوگ ہیں اور اس کا اللہ رب العزت نے حکم فرمایا ہے: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1]
یہ سند ان آٹھ راویوں کے مقابلے میں قابلِ حجت نہیں جنہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف ان کا فتویٰ نقل کیا ہے، اور نہ رکانہ رضی اللہ عنہ کی اولاد کی اس روایت کے مقابلے میں جس میں ہے کہ ان کی طلاق ایک ہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14987]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14987 in Urdu