السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3077. -- باب: ما جاء في كنايات الطلاق التي لا يقع الطلاق بها إلا أن يريد بمخرج الكلام منه الطلاق
-- باب: طلاق کے ان کنایہ (مبہم) الفاظ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جن سے طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک کہ کلام ادا کرنے والا اس سے طلاق کا ارادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 15002
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَشيْبَانُ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا أَرَدْتَ بِهَا؟" قَالَ: وَاحِدَةً قَالَ:" آللَّهِ؟" قَالَ: آللَّهِ، قَالَ:" هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ".
عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کیا ارادہ کیا تھا؟“ اس نے کہا: ایک طلاق کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «آللّٰهِ؟» ”کیا اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15002]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15002 in Urdu