السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3081. -- باب: المرأة تقول في التمليك طلقتك وهي تريد الطلاق
-- باب: تملیک کی صورت میں عورت کا یہ کہنا ”میں نے تجھے طلاق دی“ جبکہ اس کا ارادہ طلاق کا ہو۔
حدیث نمبر: 15050
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ، وَحَبِيبٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ وَالْحَسَنُ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دیا تھا تو عورت نے کہا: تجھے تین طلاقیں ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تیرے اس کام کو غلط قرار دیتے ہیں، خبردار! تو نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔
حسن بن عمارہ نے اسے زیادہ مکمل بیان کیا ہے، اور حسن متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15050]
حسن بن عمارہ نے اسے زیادہ مکمل بیان کیا ہے، اور حسن متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15050]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15050 in Urdu