السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3085. -- باب: من قال: مالي علي حرام لا يريد جواريه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”میرا مال مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اپنی لونڈیوں کا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 15081
وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي فَوَائِدِ الْأَصَمِّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْعَسَلَ وَالْحَلْوَاءَ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَغِرْتُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةَ عَسَلٍ فَسَقَتْهُ مِنْهَا شَرْبَةً فَقُلْتُ: إِنَّا وَاللهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ، فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةً مِنْ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكَ، وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاكَ، قَالَ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُنَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ:" لَا" قَالَتْ: فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ قَالَ:" سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ" فَقَالَتْ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَارَ إِلِيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى صَفِيَّةَ قَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، تَعْنِي فَلَمَّا دَارَ إِلَى حَفْصَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ؟ قَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ" قَالَ: تَقُولُ لَهَا سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ حَرَّمْنَاهُ، قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیز کو پسند فرماتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے پاس زیادہ دیر رکتے جتنا دوسری بیویوں کے پاس نہ رکتے تھے۔ میں نے غیرت کھائی تو اس بارے میں پوچھا، مجھے کہا گیا کہ کسی نے انہیں شہد کا تحفہ دیا ہے وہ شہد پلا دیتی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی تدبیر کریں گی، تو میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے قریب آئیں اور گھر میں داخل ہوں تو آپ سے کہہ دینا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے «مَغَافِيرَ» بوٹی کھائی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے فرمائیں گے: ”نہیں۔“ تو پھر کہہ دینا: یہ جو بو آپ سے آ رہی ہے یہ کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: ”حفصہ نے شہد پلایا ہے۔“ تو پھر کہہ دینا کہ شہد کی مکھی نے «عُرْفُطٍ» بوٹی کا رس چوسا ہوگا۔ عنقریب میں بھی یہ بات کہوں گی۔ اے صفیہ رضی اللہ عنہا! آپ نے بھی یہ بات کہنی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے تھے کہ میں نے آپ کے ڈر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بات پکار کر کہنے کا ارادہ کیا، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب ہوئے تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے «مَغَافِيرَ» کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو فرماتی ہیں: یہ بو کیسی ہے جو میں آپ سے محسوس کر رہی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا۔“ فرمانے لگی: شاید مکھی نے «عُرْفُطٍ» بوٹی کو چوسا ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہہ دیا۔ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ شہد نہ پیئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے اس کو حرام کر دیا ہے، میں نے اس سے کہا: خاموش رہو۔ [صحیح۔ متفق علیہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15081]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15081 in Urdu