السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3088. -- باب: ما جاء في طلاق المكره
-- باب: مکروہ (طلاق پر مجبور کیے گئے شخص) کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15106
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْأَعْرَجُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ أُمَّ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَانِي ابْنُهُ وَدَعَا غُلَامَيْنِ لَهُ فَرَبَطُونِي وَضَرَبُونِي بِسِيَاطٍ وَقَالُوا: لِتُطَلِّقَنَّهَا أَوْ لَنَفْعَلَنَّ وَلَنَفْعَلَنَّ، فَطَلَّقْتُهَا ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ" فَلَمْ يَرَيَاهُ شَيْئًا"، وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبَ مِنَ التَّابِعِينَ عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ وَالْحَسَنِ وَعِكْرِمَةَ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ.
ثابت اعرج کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے شادی کی تو اس کے بیٹے نے مجھے بلا لیا اور اپنے دو غلام بھی بلا لیے۔ انہوں نے مجھے باندھ کر کوڑوں سے میری پٹائی کی اور انہوں نے کہا: اس کو طلاق دے یا ہم اس طرح ضرور کریں گے۔ کہتے ہیں: میں نے طلاق دے دی، پھر میں نے ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو طلاق شمار نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15106]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15106 in Urdu