السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3093. -- باب: طلاق العبد بغير إذن سيده
-- باب: غلام کا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15114
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] وَقَالَ فِي الْمُطَلَّقَاتِ وَاحِدَةً: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: 228] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: كَانَ الْعَبْدُ مِمَّنْ عَلَيْهِ حَرَامٌ وَلَهُ حَلَالٌ فَحَرَّمَهُ بِالطَّلَاقِ وَلَمْ يَكُنِ السَّيِّدُ مِمَّنْ حَلَّتْ لَهُ امْرَأَتُهُ فَيَكُونُ لَهُ تَحْرِيمُهَا.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
اور ایک طلاق والی عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ ”اور ان کے شوہر اس (مدت) میں انہیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔“ [سورة البقرة: 228]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام ان لوگوں میں سے تھا جن پر (بیوی) حرام تھی اور (نکاح کے ذریعے) ان کے لیے حلال ہوئی، تو اس نے طلاق کے ذریعے اسے (اپنے اوپر) حرام کیا، اور آقا ان لوگوں میں سے نہیں تھا جن کے لیے اس (غلام) کی بیوی حلال ہوئی ہو کہ اسے اس کو حرام کرنے کا اختیار حاصل ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q15114]
اور ایک طلاق والی عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ ”اور ان کے شوہر اس (مدت) میں انہیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔“ [سورة البقرة: 228]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام ان لوگوں میں سے تھا جن پر (بیوی) حرام تھی اور (نکاح کے ذریعے) ان کے لیے حلال ہوئی، تو اس نے طلاق کے ذریعے اسے (اپنے اوپر) حرام کیا، اور آقا ان لوگوں میں سے نہیں تھا جن کے لیے اس (غلام) کی بیوی حلال ہوئی ہو کہ اسے اس کو حرام کرنے کا اختیار حاصل ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q15114]
حدیث نمبر: 15114
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ:" مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ، لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ".
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے غلام کو نکاح کرنے کی اجازت دے دی تو طلاق کا اختیار غلام کو ہی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سے طلاق کا اختیار نہیں رکھتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 15114]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15114 in Urdu