السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3124. -- باب: من له الكفارة بالصيام
-- باب: اس شخص کا بیان جس کے لیے روزے کے ذریعے کفارہ ادا کرنا ہے۔
حدیث نمبر: Q15274
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا}.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک گردن (غلام) آزاد کرنا ہے، پھر جو (غلام) نہ پائے تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا ہے۔“ [سورة المجادلة: 3-4] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: Q15274]
حدیث نمبر: 15274
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ، وَالْوَلِيدُ قَالَا: نا أَبُو مَسْعُودٍ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُوَيْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ وَكَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ فَكَلَّمَنِي بِشَيْءٍ وَهُوَ فِيهِ كَالضَّجْرِ فَرَادَدْتُهُ فَغَضِبَ، وَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نَادِي قَوْمِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ فَرَاوَدَنِي عَلَى نَفْسِي فَأَبَيْتُ فَشَادَّنِي فَشَادَدْتُهُ فَغَلَبْتُهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ الضَّعِيفَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ لَا تَصِلُ إِلِيَّ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ فِيَّ وَفِيكَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ فَقَالَ:" زَوْجُكِ وَابْنُ عَمِّكِ اتَّقِي اللهَ وَأَحْسِنِي صُحْبَتَهُ"، قَالَتْ: فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] إِلَى الْكَفَّارَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَتْ: وَاللهِ مَا عِنْدَهُ رَقَبَةٌ يَمْلِكُهَا قَالَ:" فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ:" فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُطْعِمُ، قَالَ:" بَلَى سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ" وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ يَسَعُ فِيهِ ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنَ التَّمْرِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتِ، مُرِيهِ فَلْيَتَصَدَّقْ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا، جو اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے، نے بیان کیا کہ اوس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو کچھ بات چیت ہوئی، جس کی وجہ سے وہ کبیدہ خاطر ہوئے۔ میں نے بھی جواب دیا تو انہوں نے غصہ میں کہہ دیا: ”تو میرے لیے میری ماں کی مانند ہے۔“ پھر وہ اپنی قوم کی مجلس میں گئے، جب واپس پلٹ کر آئے تو انہوں نے مجھے اپنے نفس کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تو میں نے انکار کردیا، انہوں نے میرے اوپر سختی کی تو میں نے بھی سخت مقابلہ کیا، میں جھگڑے میں ان پر غالب آگئی، جیسے عورتیں کمزور آدمی پر غلبہ پا لیتی ہیں، فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! خویلہ کا نفس اس کے قابو میں ہے، تو میرے قریب نہیں آسکتا جب تک میرے اور تیرے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ نہ فرما دے۔“ میں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا خاوند تیرے چچا کا بیٹا ہے، اللہ سے ڈر اور اس سے اچھا سلوک کر۔“ کہتی ہیں: میں ابھی گئی نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کہو کہ گردن آزاد کرے۔“ خولہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اللہ کی قسم! وہ کسی گردن کا مالک ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بوڑھا آدمی ہے، روزوں کی طاقت کہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے پاس کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس کی ایک «عَرَق» ”ٹوکرے“ سے مدد کردیتے ہیں۔“
«عَرَق» اس ٹوکرے کو کہتے ہیں جس میں تیس صاع کھجوریں ہوں۔ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک ٹوکرے سے میں بھی اس کی مدد کردوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، اس کو کہو کہ وہ صدقہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15274]
«عَرَق» اس ٹوکرے کو کہتے ہیں جس میں تیس صاع کھجوریں ہوں۔ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک ٹوکرے سے میں بھی اس کی مدد کردوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، اس کو کہو کہ وہ صدقہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15274]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15274 in Urdu