السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3126. -- باب: من له الكفارة بالإطعام
-- باب: اس شخص کا بیان جس کے لیے کھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 15276
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ خُوَيْلَةَ بِنْتَ ثَعْلَبَةَ، كَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ فَتَظَاهَرَ مِنْهَا وَكَانَ بِهِ لَمَمٌ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أَوْسًا تَظَاهَرَ مِنِّي، وَذَكَرَتْ أَنَّ بِهِ لَمَمًا فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لَهُ إِنَّ لَهُ فِيَّ مَنَافِعَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا الْقُرْآنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً"، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدَهُ رَقَبَةٌ وَلَا يَمْلِكُهَا، فَقَالَ:" مُرِيهِ فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ كَلَّفْتَهُ ثَلَاثَةَ ⦗٦٤٠⦘ أَيَّامٍ مَا اسْتَطَاعَ وَكَانَ الْحَرُّ، فَقَالَ:" مُرِيهِ فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ قَالَ:" مُرِيهِ فَلْيَذْهَبْ إِلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَهُ شَطْرَ تَمْرٍ صَدَقَةٍ فَلْيَأْخُذْهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ ثُمَّ لِيَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا" هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ شَاهِدٌ لِلْمَوْصُولِ قَبْلَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا، اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اوس رضی اللہ عنہ نے ظہار کر لیا اور اوس رضی اللہ عنہ کو دیوانگی کی بیماری تھی، خویلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہنے لگیں کہ اوس نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے اور ان کی بیماری کا بھی تذکرہ کیا اور کہنے لگیں کہ میں آپ کے پاس آئی ہوں تاکہ اس پر شفقت کی جائے۔ کیونکہ اس کو مجھ سے بہت سارے فائدے ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن نازل فرما دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کہو کہ وہ ایک گردن آزاد کر دے۔“ اس نے کہا: نہ تو اس کے پاس غلام ہے اور نہ ہی وہ کسی کا مالک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کا کہہ دو۔“ وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! اگر آپ اسے تین ایام کا مکلف ٹھہرائیں تو وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا اور گرمی کا موسم تھا۔ فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا کہہ دو۔“ اس نے کہا: وہ اس پر بھی قادر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں بن فلاں کے پاس جا کر صدقہ والی کھجوروں کا ایک ٹوکرا وصول کر کے ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اپنے سے پہلے والی موصول روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15276]
یہ روایت مرسل ہے اور اپنے سے پہلے والی موصول روایت کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15276]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15276 in Urdu