🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3131. -- باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك
-- باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15312
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ بْنَ عَدِيٍّ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ فَلَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَا صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ⦗٦٥٥⦘ فِيهِمَا" فَدَعَاهُمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا" فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَئِنِ انْطَلَقْتَ بِهَا لَقَدْ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا"، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم بن عدی! ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے، اگر وہ قتل کرے تو کیا اسے قتل کیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عیب لگایا، عویمر رضی اللہ عنہ نے عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا کیا بھئی؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا، تیری طرف سے بھلائی نہیں آئی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے پر عیب لگایا، تو عویمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ضرور سوال کروں گا، جب عویمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر لعان کروا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اس کو ساتھ لے کر جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی بیوی کو جدا کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا، اگر یہ زیادہ سیاہ، موٹے بڑے بڑے سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر سچا ہے، اگر بچہ سرخ رنگ کا ہو گویا کہ وحرہ ہے پھر میرا خیال ہے کہ عویمر جھوٹا ہے۔“ اس عورت نے انہیں مکروہ اوصاف پر بچے کو جنم دیا، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ دو لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15312 in Urdu