السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3147. -- باب: من قال الأقراء الحيض
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
حدیث نمبر: 15401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ الْأَصْمَعِيُّ وَغَيْرُهُ يُقَالُ: قَدْ" أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا دَنَا حَيْضُهَا وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُهْرُهَا" قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَاصِلُ الْأَقْرَاءِ إِنَّمَا هِيَ وَقْتُ الشَّيْءِ إِذَا حَضَرَ قَالَ الْأَعْشَى يَمْدَحُ رَجُلًا بِغَزْوَةٍ غَزَاهَا:.
ہمیں علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصمعی رحمہ اللہ اور دوسروں نے کہا کہ «أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ» اس وقت ہی کہا جاتا ہے جب حیض کا وقت قریب ہو اور اس وقت بھی کہا جاتا ہے جب طہر قریب ہو۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصل میں «أَقْرَأَ» کسی چیز کے وقت کا حاضر ہونا ہے۔ جیسے ایک شاعر ایک آدمی کی غزوہ میں تعریف کرتا ہے:
«مُوَرَّثَةً مَالاً وَفِي الذِّكْرِ رِفْعَةً لِمَا ضَاعَ فِيهَا مِنْ قُرُوءِ نِسَائِكَا»
”مال کی طلب و حصول اور نام کی بلندی میں اس سبب سے ضائع ہو گئے ان کی عورتوں کے قروء“، تو یہاں «قُرُوء» سے مراد طہر ہے کیونکہ عورتوں سے وطی طہر ہی میں ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15401]
«مُوَرَّثَةً مَالاً وَفِي الذِّكْرِ رِفْعَةً لِمَا ضَاعَ فِيهَا مِنْ قُرُوءِ نِسَائِكَا»
”مال کی طلب و حصول اور نام کی بلندی میں اس سبب سے ضائع ہو گئے ان کی عورتوں کے قروء“، تو یہاں «قُرُوء» سے مراد طہر ہے کیونکہ عورتوں سے وطی طہر ہی میں ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15401]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15401 in Urdu