السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3156. -- باب: الحيض على الحمل
-- باب: حالتِ حمل میں حیض آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15427
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ نا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمُحْتَسِبُ، نا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ خُزَيْمَةَ الْبُخَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى التَّيْمِيُّ نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٦٩٤⦘ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً أَغْزِلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ فَجَعَلَ جَبِينُهُ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُهُ يَتَوَلَّدُ نُورًا فَبُهِتُّ فَنَظَرَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَالَكِ يَا عَائِشَةُ بُهِتِّ؟" قُلْتُ: جَعَلَ جَبِينُكَ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُكَ يَتَوَلَّدُ نُورًا وَلَوْ رَآكَ أَبُو كَبِيرٍ الْهُذَلِيُّ لَعَلِمَ أَنَّكَ أَحَقُّ بِشِعْرِهِ قَالَ:" وَمَا يَقُولُ أَبُو كَبِيرٍ؟" قَالَتْ: قُلْتُ يَقُولُ:.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں بیٹھی ہوئی اون کات رہی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے کو پیوند لگا رہے تھے، آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگا اور آپ کے پسینے سے روشنی پھوٹ رہی تھی، میں حیرانی سے خاموش ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! کس چیز نے تجھے حیران کیا ہے؟“ میں نے کہا: آپ کی پیشانی سے نکلنے والے پسینے اور اس پسینے سے نکلنے والی روشنی نے، اور اگر آپ کو ابو کبیر ذہلی دیکھ لیتا تو وہ جان جاتا کہ آپ اس کے شعر کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو کبیر نے کیا کہا ہے؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ کہتا ہے:
”اور وہ حیض کی ہر آلودگی سے پاک ہے، دودھ پلانے والی کی خرابی اور درد سر والی کی بیماری سے محفوظ ہے۔ جب تو اس کے چہرے کی رونق کو دیکھے تو وہ ایسے چمک رہا ہوگا جیسے گرجنے چمکنے والے بادل۔“
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کھڑے ہوئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15427]
”اور وہ حیض کی ہر آلودگی سے پاک ہے، دودھ پلانے والی کی خرابی اور درد سر والی کی بیماری سے محفوظ ہے۔ جب تو اس کے چہرے کی رونق کو دیکھے تو وہ ایسے چمک رہا ہوگا جیسے گرجنے چمکنے والے بادل۔“
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کھڑے ہوئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15427]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15427 in Urdu