السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
314. -- باب: المستحاضة إذا كانت مميزة
-- باب: مستحاضہ (بیماری کا خون آنے والی عورت) کا بیان جب وہ (خون کے درمیان) تمیز کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1553
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ مَكْحُولٌ:" النِّسَاءُ لَا يَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ أَنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رُقَيْقَةً فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَى مَا قَالَ مَكْحُولٌ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرْفُوعًا بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
(الف) مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورتوں پر حیض پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون گاڑھا اور سخت سیاہ ہوتا ہے، جب یہ چلا جائے اور زرد پتلا ہو جائے تو وہ استحاضہ ہے، لہٰذا وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکحول رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1553]
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکحول رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1553]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1553 in Urdu