السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3173. -- باب: الاختلاف في مهرها وتحريم نكاحها على الثاني
-- باب: عورت کے مہر میں اختلاف اور دوسرے شوہر پر اس کے نکاح کے حرام ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15544
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَقَالَ: إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَإِنْ شَاءَتْ تَزَوَّجَهُ فَعَلَتْ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَقُولُ قَالَ الشَّيْخُ: وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ وَجَعَلَ لَهَا مَهْرَهَا وَجَعَلَهُمَا يَجْتَمِعَانِ.
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور اس کے لیے حق مہر مقرر کر دیا؛ کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا اور فرمایا: جب اس کی عدت ختم ہو جائے تو اگر وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے تو وہ کر لے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح ہی کہتے ہیں۔
اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا اور اس کے لیے حق مہر کو جائز قرار دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا بھی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15544]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح ہی کہتے ہیں۔
اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا اور اس کے لیے حق مہر کو جائز قرار دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا بھی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15544]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15544 in Urdu