السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
315. -- باب: غسل المستحاضة المميزة عند إدبار حيضها
-- باب: تمیز کرنے والی مستحاضہ کا اپنی حیض کی مدت ختم ہونے پر غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ:" وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" أَوْ قَالَ:" اغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ زِيَادَةُ الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ وَذَكَرَ فِيهِ الِاغْتِسَالَ إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ فِي سِيَاقِهِ وَفِي الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَشُكُّ فِيهِ.
(الف) ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ہم معنی روایت بیان کی ہے کہ ”جب خون چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ،“ یا فرمایا: ”اپنے آپ سے خون دھو اور نماز پڑھ۔“ (ب) اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کر،“ لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔ ابو اسامہ نے ہشام سے روایت کی ہے، اس میں غسل کا ذکر ہے مگر انہوں نے اس کے سیاق میں محدثین کی جماعت کی مخالفت کی ہے، اور روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اس میں شک تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1556 in Urdu