السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3180. -- باب: من قال بتخيير المفقود إذا قدم بينها وبين الصداق ومن أنكره
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جو لاپتہ شخص کی واپسی پر اسے بیوی اور مہر (واپس لینے) کے درمیان اختیار دینے کے قائل ہیں، اور جنہوں نے اس امر کا انکار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15573
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّ صَاحِبَنَا قَالَ: أَدْرَكْتُ مَنْ يُنْكِرُ مَا قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَدْ رَأَيْنَا مَنْ يُنْكِرُ قَضِيَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّهَا فِي الْمَفْقُودِ وَيَقُولُ: هَذَا لَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ قَضَاءِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهَلْ كَانَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ إِلَّا أَنَّ الثِّقَاتِ إِذَا حَمَلُوا ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يُتَّهَمُوا فَكَذَلِكَ الْحُجَّةُ عَلَيْكَ وَكَيْفَ جَازَ أَنْ يَرْوِيَ الثِّقَاتُ عَنْ عُمَرَ حَدِيثًا وَاحِدًا فَنَأْخُذُ بِِبَعْضِهِ وَنَدَعُ بَعْضًا.
ہمیں ربیع رحمہ اللہ نے خبر دی، میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: ہمارے ساتھی نے کہا ہے: میں ان لوگوں کو پاتا ہوں جو انکار کرتے ہیں اس کا جو بعض لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے دیکھا ہے جو عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کا انکار کرتا ہے ان تمام کا جو گم شدہ خاوند کی عورت کے بارے میں ہیں اور وہ کہتا ہے: یہ اس کے مشابہ نہیں ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے میں سے ہو۔ ثقہ راویوں نے جب اس کو عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہو، پھر ان پر تہمت نہیں لگائی جائے گی۔ اسی طرح حجت آپ پر ہوگی اور یہ کیسے جائز ہے کہ ثقہ راوی عمر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کریں اور ہم اس کے بعض کو لیں اور بعض کو چھوڑ دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15573]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15573 in Urdu