السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3196. -- باب: فضل النفقة على الأهل
-- باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15696
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا ابْنُ كَثِيرٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا: نا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ أَحَدُنَا بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا فَقَالَ:" يَرْحَمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ابْنَ عَفْرَاءَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ:" لَا" قُلْتُ: فَبِالشَّطْرِ قَالَ:" لَا" قُلْتُ: فَبِالثُّلُثِ قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ ⦗٧٦٩⦘ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَ بِكَ قَوْمًا وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ" وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (میری عیادت کے لیے) آئے اور میں مکہ میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ ہمارا کوئی شخص اسی زمین میں فوت ہو جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ» ”اللہ تعالیٰ عفراء کے بیٹے پر رحم فرمائے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ”میں اپنے سارے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”تو آدھے کی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”ایک تہائی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی، اور ایک تہائی بھی بہت ہے، تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑے، یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں فقیر کر کے چھوڑے اور وہ اپنے ہاتھوں کو لوگوں کے سامنے پھیلاتے رہیں۔ جو تو اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور قریب ہے کہ اللہ تیرے ذریعے ایک قوم کو نفع دے اور دوسری قوم کو تیرے ذریعے تکلیف دے۔“ اور اس وقت ان کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔
اس کو بخاری نے ابو نعیم اور محمد بن کثیر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15696]
اس کو بخاری نے ابو نعیم اور محمد بن کثیر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15696]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15696 in Urdu