🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3198. -- باب: {لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله}
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”خوشحال شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے“ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15702
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نَفَقَةِ الْمُقْتِرِ: إِنَّهَا مُدٌّ بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنْ طَعَامِ الْبَلَدِ قَالَ: وَإِنَّمَا جَعَلْتُ الْفَرْضَ مُدًّا بِالدَّلَالَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَفْعِهِ إِلَى الَّذِي أَصَابَ أَهْلَهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عَرَقًا فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا لِسِتِّينَ مِسْكِينًا فَكَانَ ذَلِكَ مُدًّا مُدًّا لِكُلِّ مِسْكِينٍ، والْعَرَقُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا عَلَى ذَلِكَ يُعْمَلُ لِيَكُونَ أَرْبَعَةَ أَعْرَاقٍ وَسْقًا وَلَكِنَّ الَّذِي حَدَّثَهُ أَدْخَلَ الشَّكَّ فِي الْحَدِيثِ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ صَاعًا.
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے تنگ دست (شوہر) کے نفقہ کے بارے میں فرمایا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد کے حساب سے شہر کی (عام) خوراک میں سے روزانہ ایک مد ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور میں نے یہ فرض مقدار ایک مد اس دلیل کی بنا پر مقرر کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں ملتی ہے جس نے رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی تھی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ساٹھ مسکینوں (کو کھلانے) کے لیے ایک ٹوکرا دیا جس میں پندرہ صاع تھے، تو یہ ہر مسکین کے لیے ایک ایک مد بنتا ہے، اور ٹوکرا پندرہ صاع کا ہوتا تھا، اسی حساب سے بنایا جاتا تھا تاکہ چار ٹوکرے ایک وسق بن جائیں، لیکن جس نے انہیں یہ حدیث بیان کی اس نے حدیث میں شک داخل کر دیا کہ پندرہ صاع تھے یا بیس صاع۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15702]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15702
قَالَ الشَّيْخُ يَعْنِي بِهِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ الَّذِي أَصَابَ امْرَأَتَهُ فِي رَمَضَانَ قَالَ: فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ" فَذَكَرَهُ قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ مِنَ التَّمْرِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس دیہاتی کا قصہ منقول ہے جو رمضان میں اپنی بیوی کے پاس آیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک ٹوکری لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے اور اس کو صدقہ کر دے“ انہوں نے اسے ذکر کیا (یعنی لمبی حدیث)۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعید رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں؟ انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع کے درمیان۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15702]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15702 in Urdu