السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: Q15712
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 6] فَجَعَلَ لَهُنَّ نَفَقَةً بِصِفَةٍ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان: { وَاِنْ کُنَّ اُولاَتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } [الطلاق ٤] ”اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو تم ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ وضع حمل کردیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: Q15712]
حدیث نمبر: 15712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
(١٥٧١٢) ابو سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن حفص نے اسے طلاق بائنہ دے دی اور وہ غائب ہوگیا۔ اس نے عمرو بن حفص کی طرف فاطمہ بنت قیسکو اپنا وکیل بنا کر بھیجا، وہ اس پر ناراض ہوئی۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی۔ اس نے یہ تمام قصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور اس کو حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک کے گھر میں گزارے، پھر فرمایا: وہ عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے تو اپنے کپڑے بھی تبدیل کرے گی اور جب تو حلال ہوجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ کہتی ہے: جب میں حلال ہوگئی تو میں نے آپ سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان اور ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ کہتی ہیں: میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ نے فرمایا: تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ اللہ نے اس میں خیر کردی اور میں رشک کیا کرتی۔ اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے مالک سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15712]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 1480»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15712 in Urdu