السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا شَاذَانُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ:" يَا فَاطِمَةُ إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ" كَذَا أَتَى بِهِ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ وَالصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي نَفْيِ النَّفَقَةِ دُونَ السُّكْنَى، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ فَاطِمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّعْبِيِّ وَالْبَهِيِّ نَفْيُهُمَا جَمِيعًا وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ ⦗٧٧٩⦘ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ فَاطِمَةَ، وَالْأَشْبَهُ بِسِيَاقِ الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَى النَّفَقَةَ وَأَذِنَ لَهَا فِي الِانْتِقَالِ لِعِلَّةٍ لَعَلَّهَا اسْتَحَيَتْ مِنْ ذِكْرِهَا وَقَدْ ذَكَرَهَا غَيْرُهَا عَلَى مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهَا فِي كِتَابِ الْعِدَدِ وَلَمْ يَرِدْ نَفْيُ السُّكْنَى أَصْلًا، أَلَا تَرَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ لَهَا: اعْتَدِّي حَيْثُ شِئْتِ وَلَكِنَّهُ حَصَنَهَا حَيْثُ رَضِيَ إِذْ كَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَكِيلٌ يُحْصِنُهَا، وَأَمَّا قَوْلُهُ:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ" فَلَيْسَ بِمَعْرُوفٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرِدْ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ مِثْلَهُ، وَأَمَّا إِنْكَارُ مَنْ أَنْكَرَ عَلَى فَاطِمَةَ فَإِنَّمَا هُوَ لِكِتْمَانِهَا السَّبَبَ فِي نَقْلِهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے فاطمہ! رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر اس کے خاوند کے لیے رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ اسود بن عامر شاذان نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے اور صحیح پہلی (روایت) ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے خرچہ کی نفی کی ہے رہائش کی نہیں، اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، اور ابو سلمہ رحمہ اللہ سے ان کے بعض (شاگردوں) کی روایت میں، اور شعبی رحمہ اللہ اور بہی رحمہ اللہ کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے، اور ابوبکر بن ابو جہم رحمہ اللہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرچہ کی نفی کی اور ان کو منتقل ہونے کی اجازت (کسی) علت کی وجہ سے دی، شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کرتی تھیں اور ان کے علاوہ دوسروں نے اسے ذکر کیا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر پہلے ’کتاب العدد‘ میں کر دیا ہے، اور رہائش کی نفی اصلاً (ثابت طور پر) وارد نہیں ہوئی۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ ”تو جہاں چاہے عدت گزار“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں محفوظ رکھا جہاں آپ نے پسند فرمایا، کیونکہ ان کا خاوند غائب تھا اور اس کا کوئی وکیل نہ تھا جو انہیں محفوظ رکھے۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ تو یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسی سند سے وارد ہوا ہے جس سے اس جیسی بات ثابت ہو۔ اور جن لوگوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر انکار کیا تو وہ صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنی منتقلی کا سبب چھپایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15725]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے خرچہ کی نفی کی ہے رہائش کی نہیں، اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، اور ابو سلمہ رحمہ اللہ سے ان کے بعض (شاگردوں) کی روایت میں، اور شعبی رحمہ اللہ اور بہی رحمہ اللہ کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے، اور ابوبکر بن ابو جہم رحمہ اللہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرچہ کی نفی کی اور ان کو منتقل ہونے کی اجازت (کسی) علت کی وجہ سے دی، شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کرتی تھیں اور ان کے علاوہ دوسروں نے اسے ذکر کیا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر پہلے ’کتاب العدد‘ میں کر دیا ہے، اور رہائش کی نفی اصلاً (ثابت طور پر) وارد نہیں ہوئی۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ ”تو جہاں چاہے عدت گزار“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں محفوظ رکھا جہاں آپ نے پسند فرمایا، کیونکہ ان کا خاوند غائب تھا اور اس کا کوئی وکیل نہ تھا جو انہیں محفوظ رکھے۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ تو یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسی سند سے وارد ہوا ہے جس سے اس جیسی بات ثابت ہو۔ اور جن لوگوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر انکار کیا تو وہ صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنی منتقلی کا سبب چھپایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15725]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15725 in Urdu