السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
318. -- باب: المعتادة لا تميز بين الدمين
-- باب: اس عادت والی عورت کا بیان جو دو قسم کے خون (حیض اور استحاضہ) کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1575
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِّ أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ يَعْنِي عَنْ سَبَبِ حَيْضَتِهَا لَا تَدْرِي كَيْفَ تُصَلِّي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضَتُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا لَا تَدْرِي كَيْفَ تُصَلِّي؟ قَالَتْ:" فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ فَلْتَعْتَدَّ" وَفِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ فَلْتَقْعُدْ وَتُقَدِّرْ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ وَلْتَحْسُنْ طُهْرَهَا، ثُمَّ تَسْتَدْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّي فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَأَنْ يُذْهِبَهُ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى قَالَتْ: فَأَمَرْتُهَا فَفَعَلَتْ، فَأَذْهَبَهَا اللهُ عَنْهَا فَمُرِي صَاحِبَتَكِ بِذَلِكَ. ⦗٤٩٣⦘ لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيٍّ.
سیدہ بھیتہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت سے سنا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کے متعلق سوال کر رہی تھی، وہ نہیں جانتی تھی کہ کس طرح نماز پڑھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کے متعلق سوال کیا جس کا حیض خراب ہو گیا اور وہ خون بہائے جا رہی ہے اور وہ نہیں جانتی تھی کیسے نماز پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو کہوں کہ ”وہ انتظار کرے اتنا جتنا وہ ہر ماہ میں حیض گزارتی تھی اور اس کا صحیح حیض یہی ہے، پھر وہ یہی عادت بنا لے۔“
اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ ”وہ بیٹھے اور اپنے دنوں اور راتوں کا اندازہ لگا لے اور نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور اچھی طرح طہارت حاصل کر لے، پھر کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور ان شاء اللہ! اللہ تجھ سے لے جائے گا۔“ فرماتی ہیں: میں نے اس کو حکم دیا، اس نے ایسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بیماری دور کر دی۔ لہٰذا تو بھی اپنی سہیلیوں کو اس کا حکم دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1575]
اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ ”وہ بیٹھے اور اپنے دنوں اور راتوں کا اندازہ لگا لے اور نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور اچھی طرح طہارت حاصل کر لے، پھر کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور ان شاء اللہ! اللہ تجھ سے لے جائے گا۔“ فرماتی ہیں: میں نے اس کو حکم دیا، اس نے ایسے کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بیماری دور کر دی۔ لہٰذا تو بھی اپنی سہیلیوں کو اس کا حکم دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه أبو داؤد 284»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1575 in Urdu