السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
318. -- باب: المعتادة لا تميز بين الدمين
-- باب: اس عادت والی عورت کا بیان جو دو قسم کے خون (حیض اور استحاضہ) کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1583
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ثنا عَفَّانُ ثنا وَهَيْبٌ ثنا أَيُّوبُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ اسْتُحِيضَتْ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ لَهَا فَتَخْرُجُ وَهِيَ غَالِبَةُ الصُّفْرَةِ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ أَيَّامَ قُرْئِهَا وَأَيَّامَ حَيْضَتِهَا فَتَدَعُ فِيهَا الصَّلَاةَ وَتَغْتَسِلُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَتَسْتَدْفِرُ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي" وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ: فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ وَحَدِيثُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي اسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ غَيْرُهَا وَيُحْتَمَلُ إِنْ كَانَتْ تَسْمِيَتُهَا صَحِيحَةً فِي حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ إِنْ كَانَتْ لَهَا حَالَتَانِ فِي مُدَّةِ اسْتِحَاضَتِهَا حَالَةٌ تُمَيِّزُ فِيهَا بَيْنَ الدَّمَيْنِ فَأَفْتَاهَا بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عِنْدَ إِقْبَالِ الْحَيْضِ وَبِالصَّلَاةِ عِنْدَ إِدْبَارِهِ وَحَالَةٌ لَا تُمَيِّزُ فِيهَا بَيْنَ الدَّمَيْنِ فَأَمَرَهَا بِالرُّجُوعِ إِلَى الْعَادَةَ وَيُحْتَمَلُ غَيْرُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ دُونَ التَّسْمِيَةِ.
(الف) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا استحاضہ والی ہوئیں تو وہ اپنے ٹب سے غسل کیا کرتی تھیں، وہ باہر آتیں تو زردی اوپر آئی ہوتی تھی، اس کے لیے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے قرء کے دن اور اپنے حیض کے دن دیکھے، ان دنوں میں نماز چھوڑ دے اور اس کے علاوہ دنوں میں غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھے اور نماز پڑھے۔“ (ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث جو سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش کے متعلق ہے وہ اس مذکورہ روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ (ج) اس حدیث میں دلالت ہے کہ جس عورت کے لیے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا وہ ان (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے علاوہ کوئی اور عورت تھی۔ اگر حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنہا میں اس کا نام صحیح ہے تو اس بات کا احتمال ہے کہ اس کی دو کیفیات تھیں۔ اس کی استحاضہ کی مدت دونوں خونوں (استحاضہ اور حیض) کے درمیان واضح ہو جاتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حیض کے آنے کے وقت ترک نماز کا اور حیض جانے کے بعد نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ دوسری وہ کیفیت جو واضح نہیں ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عادت کی طرف لوٹنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ اور احتمال بھی ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ابو سلمہ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بغیر نام کے نقل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1583 in Urdu