السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3226. -- باب: تحريم القتل من السنة
-- باب: سنتِ نبوی سے قتل کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15847
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ، فَنَذِرُوا بِنَا فَهَرَبُوا، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ، فَعَرَضَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ. فَقَالَ:" أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ قَالَهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا؟ مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ. قَالَ أَبُو ظَبْيَانَ: قَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللهِ لَا أَقْتُلُهُ حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: ١٩٣] فَقَالَ سَعْدٌ: قَاتَلْنَا حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ نُقَاتِلَ حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرقات کی طرف ایک لشکر میں روانہ کیا۔ ابتدائی حملہ کے بعد ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ ہم نے ایک آدمی کو گرفتار کیا تو وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہنے لگا، لیکن ہم نے اسے قتل کر دیا۔ مجھے یہ بات دل میں کھٹکنے لگی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”قیامت کے دن تو «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» کا کیا جواب دے گا؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو اسلحہ اور قتل کے خوف سے پڑھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کا سینہ پھاڑ کر دیکھا تھا کہ کس وجہ سے اس نے کلمہ پڑھا ہے؟ اے اسامہ! اس «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» کا تو قیامت کے دن کیا جواب دے گا؟“ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات بار بار دہراتے رہے کہ میں سوچنے لگا، کاش! میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا۔ ابوضبیان کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں (کسی مسلمان کو) اس وقت تک قتل نہیں کروں گا جب تک ذو البطین یعنی اسامہ (رضی اللہ عنہما) اسے قتل نہ کریں، تو ایک آدمی کہنے لگا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے کہ ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہم فتنہ کے ختم ہونے تک لڑے، تو اور تیرے ساتھی کیا یہ چاہتے ہیں کہ ہم لڑیں یہاں تک کہ فتنہ برپا ہو جائے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15847]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15847 in Urdu