السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3232. -- باب: فيمن لا قصاص بينه باختلاف الدينين
-- باب: ان افراد کا بیان جن کے درمیان اختلافِ دین کے سبب قصاص نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 15907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شَيْبَانَ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ لَا، وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا أَنْ يُعْطِيَ اللهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ::" الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ"،.
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اور ابن شیبان کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کیا آپ کے پاس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کے علاوہ اور کچھ ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، اور قسم ہے اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتا ہے اور مخلوق کو پیدا کرتا ہے، ہاں جو اللہ نے کتاب اللہ کا اپنے بندے کو فہم دیا ہے اور جو کچھ صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا لکھا ہے؟ فرمایا: ”دیت، قیدیوں کو آزاد کرنا اور یہ بھی کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15907]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15907 in Urdu