السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3232. -- باب: فيمن لا قصاص بينه باختلاف الدينين
-- باب: ان افراد کا بیان جن کے درمیان اختلافِ دین کے سبب قصاص نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 15914
فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ خُرَيْنِقَ بِنْتِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَخِيهَا، عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ:" أَلَمْ تَرَ إِلَى ⦗٥٥⦘ مَا صَنَعَ صَاحِبُكُمْ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ؟ لَوْ قَتَلْتُ مُؤْمِنًا بِكَافِرٍ لَقَتَلْتُهُ فَدُوهُ"، فَوَدَيْنَاهُ وَبَنُو مُدْلِجٍ مَعَنَا، فَجَاءُوا بِغَنَمٍ عُفْرٍ لَمْ أَرَ أحْسَنَ مِنْهَا أَلْوَانًا. وَكَانَتْ بَنُو مُدْلِجٍ حُلَفَاءَ بَنِي كَعْبٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا الْوَاقِدِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: خِرَاشُ بْنُ أُمَيَّةَ، بَدَلَ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَلَمْ يذْكُرِ الدِّيَةَ وَمَا بَعْدَهَا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تمہارے صاحب ہلال بن امیہ نے کیا کیا؟ اگر مومن کو کافر کے بدلے قتل کیا جاتا تو میں کر دیتا، فدیہ دے دو۔“ ہم نے انھیں فدیہ دے دیا۔ بنو مدلج ہمارے ساتھ تھے، تو وہ بڑی خوبصورت بکریاں لائے کہ ایسی خوش رنگ ہم نے پہلے نہیں دیکھی تھیں اور بنو مدلج جاہلیت میں بنو کعب کے حلیف تھے۔
ایک دوسری روایت میں ہلال بن امیہ کی جگہ خراش بن امیہ کا ذکر ہے اور اس میں دیت اور اس کے بعد والی بات کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15914]
ایک دوسری روایت میں ہلال بن امیہ کی جگہ خراش بن امیہ کا ذکر ہے اور اس میں دیت اور اس کے بعد والی بات کا ذکر نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15914]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15914 in Urdu