السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3233. -- باب: بيان ضعف الخبر الذي روي في قتل المؤمن بالكافر، وما جاء عن الصحابة في ذلك
-- باب: کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کے متعلق مروی روایت کے ضعف، اور اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15922
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: ⦗٥٨⦘ لَقِيتُ زُفَرَ فَقُلْتُ لَهُ: صِرْتُمْ حَدِيثًا فِي النَّاسِ وَضُحْكَةً. قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَقُولُونَ فِي الْأَشْيَاءِ كُلِّهَا: ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ، وَجِئْتُمْ إِلَى أَعْظَمِ الْحُدُودِ، فَقُلْتُمْ: تُقَامُ بِالشُّبُهَاتِ، قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ"، فَقُلْتُمْ: يُقْتَلُ بِهِ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ السَّاعَةَ أَنِّي قَدْ رَجَعْتُ عَنْهُ..
عبدالواحد بن زیاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام زفر رحمہ اللہ سے کہا: تم لوگوں میں باتوں کا موضوع اور مذاق بن گئے ہو۔ انہوں نے پوچھا: کیسے؟ میں نے کہا: تم یہ کہتے ہو کہ شک ہو تو حد کو ساقط کر دو اور خود بہت بڑی حد شبہ میں قائم کرتے ہو۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو فرمان ہے: ”مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ اور تم کہتے ہو کہ قتل کیا جائے گا۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کہنے لگے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس سے رجوع کر لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15922]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لعبدالواحد بن زياد»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15922 in Urdu