السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3250. -- باب: من سقى رجلا سما
-- باب: جس شخص نے کسی آدمی کو زہر پلا دیا ہو اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 16008
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً، مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً، ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا، وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ"، وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا، فَقَالَ لَهَا:" أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟" قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ:" أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي" لِلذِّرَاعِ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ، وَإِنْ لَمْ يكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُعَاقِبْهَا، وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودیہ نے زہر میں بجھا ہوا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دستی والا گوشت لیا اور کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جماعت نے بھی کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودیہ کو بلا لیا اور پوچھا: ”کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے؟“ عورت کہنے لگی: آپ کو کس نے بتایا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس دستی نے بتایا ہے۔“ کہنے لگی: جی ملایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں؟“ کہنے لگی کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا اور اگر نبی نہیں ہیں تو ہم آپ سے سکون میں آجائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور اس گوشت کی وجہ سے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم فوت بھی ہو گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس زہر کا اثر زائل کرنے کے لیے اپنے کندھوں کے درمیان میں سینگی لگوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو ہند نے سینگ اور چھری سے سینگی لگائی، وہ انصار کے قبیلہ بنو بیاضہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16008]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16008 in Urdu