السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
322. -- باب: المبتدئة لا تميز بين الدمين
-- باب: اس مبتدئہ (جسے پہلی بار خون آیا ہو) عورت کا بیان جو دو قسم کے خون کے درمیان تمیز نہ کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1603
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٍ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَرَى فِيهَا، قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ قَالَ:" أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ" قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ:" فَاتَّخِذِي ثَوْبًا" قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ" فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكِ وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي كُلَّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِينَ فَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ" قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلِيَّ"..
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے بہت زیادہ استحاضہ آتا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دینے کے لیے آئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر پایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ استحاضہ والی ہوں، آپ کا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ اس نے تو مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئی استعمال کرو وہ خون کو جذب کر لیتی ہے۔“ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس سے زیادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کپڑا باندھ لے۔“ انھوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہے، میں تو بہت زیادہ خون بہاتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آپ کو دو کاموں کا حکم دوں گا، ان میں سے جو کر لے گی وہ تجھ کو دوسرے سے کافی رہے گا، اگر تو ان پر قدرت رکھے، تو اسے زیادہ جاننے والی ہے،“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کی ایک چوک ہے، تو چھ یا سات دن اللہ کے علم کے مطابق حیض گزار، پھر غسل کر اور جب تو دیکھے کہ اچھی طرح پاک ہو گئی ہے تو تیئیس یا چوبیس دن، رات نماز پڑھ، بے شک یہ تجھ کو کفایت کر جائے گا اور اسی طرح ہر ماہ کر جس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں اور جس طرح وہ اپنے طہر اور حیض کے اوقات میں پاک ہوتی ہیں اور اگر تو قدرت رکھے کہ تو ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی پڑھے تو غسل کر اور ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو جمع کر لے اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشا کو جلدی ادا کرے، پھر غسل کر اور دو نمازوں کو جمع کر لے پھر ایسے کر اور روزے رکھ، اگر تو اس پر قدرت رکھے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں کاموں میں سے مجھے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 287»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1603 in Urdu