السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3255. -- باب: الخيار في القصاص
-- باب: قصاص میں (معاف کرنے یا دیت لینے کا) اختیار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16039
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، أَلَا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُعْطَى الدِّيَةَ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ" قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ ⦗٩٤⦘ لَهُ: أَبُو شَاهٍ، فَقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ شَيْبَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِمَّا أَنْ يُودَى، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ"، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ عبْدُ اللهِ:" إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ" وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے بنو لیث کے ایک شخص کو فتح مکہ کے دن قصاصاً قتل کردیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ”اللہ نے مکہ کو ہاتھیوں سے بچایا اور اپنے پیغمبر اور مؤمنوں کو اس کا وارث بنا دیا، سن لو! مکہ نہ پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ کبھی ہوگا، ہاں میرے لیے دن کا کچھ حصہ اسے حلال کیا گیا ہے اور اب اس گھڑی پھر اس کی حرمت قائم و دائم ہے، نہ کوئی اس کا کانٹا توڑے، نہ درخت اکھاڑے اور یہاں کی گری ہوئی (گمشدہ) چیز کوئی نہ اٹھائے علاوہ اس کے جو اعلان کرے، اور جس کا کوئی قتل کردیا جائے تو وہ دو بہترین چیزوں میں اختیار کے ساتھ ہے، چاہے دیت لے لے یا قصاص۔“ ایک شخص اہل یمن سے ابو شاہ نامی آیا اور کہنے لگا: یہ چیزیں مجھے لکھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو شاہ کو لکھ دو۔“ قریش کا ایک آدمی کہنے لگا: یا رسول اللہ! اذخر گھاس کی اجازت تو دے دیں؛ کیونکہ اسے ہم اپنے گھروں میں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو! اذخر گھاس اکھاڑ سکتے ہو۔“
اور صحیح بخاری میں ابونعیم عن شیبان روایت کرتے ہیں کہ ”چاہے وہ ادائیگی کر دے یا قصاص دے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16039]
اور صحیح بخاری میں ابونعیم عن شیبان روایت کرتے ہیں کہ ”چاہے وہ ادائیگی کر دے یا قصاص دے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16039]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16039 in Urdu