🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3258. -- باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص
-- باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16049
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِصَاصٌ قَطُّ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ:" مَنْ يَشُكُّ فِيهِ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ أَقُولُ عَنْ أَنَسٍ، فَقَالُوا لِي: لَا تَشُكَّ فِيهِ؟ فَقُلْتُ: لَا أَعْلَمُ، وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَقِّيًا كَيِّسًا.
عطاء بن ابی میمونہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پتہ چلا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس میں درگزری کا مشورہ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عفان رحمہ اللہ سے عرض کیا: ”اس میں کس کو شک ہے؟“ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں یہ کہتا تھا کہ «عَنْ أَنَسٍ» ”انس (رضی اللہ عنہ) سے““ تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں شک نہ کر۔“ میں نے کہا: ”میں اسے نہیں جانتا“ اور وہ نہایت ذہین اور فطین آدمی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16049]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16049 in Urdu