🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3258. -- باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص
-- باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا قَتَلَ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَتَلْتَهُ؟" فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ" قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ:" كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟" قَالَ: كُنْتُ وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟" قَالَ: مَا لِيَ مَالٌ إِلَّا كِسَائِي، قَالَ:" فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟" قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ وَقَالَ:" دُونَكَ صَاحِبَكَ" فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" فَرَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" وَمَا أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ؟" قَالَ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ كَذَاكَ" قَالَ: فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيِّ.
علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں ان کے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جو دوسرے سے قصاص کا طالب تھا، وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ اس نے کہا: اگر وہ اعتراف نہ کرے تو میں اس پر گواہ قائم کرتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے قتل کیا؟“ تو جواب دیا کہ ہم دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا میں نے اس کے سر پر کلہاڑا مارا اور وہ مر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس دیت دینے کے لیے کچھ ہے؟“ کہا: یہ میری چادر ہے۔ فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ تیری قوم کے لوگ تجھے خرید لیں گے؟“ کہا: میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ حقیر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تسمہ اس شخص کے ہاتھ میں پکڑایا اور فرمایا: ”لے جاؤ اسے اور قصاص لے لو“، اس نے پکڑا اور چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اسے یہ قتل کر دے گا تو یہ بھی اس جیسا ہو گا“۔ تو قوم کا ایک شخص اس سے ملا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پہنچائی۔ وہ شخص پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا تھا اور اب آپ کی یہ بات پتہ چلی ہے، تو فرمایا: ”ہاں، کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرا گناہ اور تیرے بھائی کا گناہ اپنے سر لے لے؟“ کہنے لگا: کیوں نہیں اے اللہ کے نبی! تو فرمایا: ”پھر ایسے ہی ہو گا“، تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16051]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16051 in Urdu