السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3262. -- باب: ميراث الدم والعقل
-- باب: قصاص (خون) اور دیت کی وراثت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: عَقْلُ الرَّجُلِ الْحُرِّ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَتِهِ، مَنْ كَانُوا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ عَلَى فَرَائِضِهِمْ، كَمَا كَانُوا يَقْسِمُونَ مِيرَاثَهُ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَقْلُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَتِهَا مَنْ كَانُوا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ كَمَا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ مِيرَاثُهَا، وَيَعْقِلُ عَنْهَا عَصَبَتُهَا إِذَا قَتَلَتْ قَتِيلًا أَوْ جَرَحَتْ جَرِيحًا، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْأَخِ مِنَ الْأُمِّ هَلْ يَرِثُ مِنَ الدِّيَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ وَرَّثَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحٌ، وَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ: إِنَّمَا دِيَتُهُ بِمَنْزِلَةِ مِيرَاثِهِ.
جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان وراثت ہوگی اور وہ ان کے درمیان فرضی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے اور آزاد عورت کی دیت بھی وراثت ہے جو اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی اور اگر عورت قتل کرے یا کسی کو زخمی کرے تو اس کے عصبہ اس کی دیت ادا کریں گے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ عمرو بن ہرم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: کیا اخیافی بھائی، جو باپ کی طرف سے نہ ہو، دیت کا وارث ہوگا؟ فرمایا: ہاں، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اور شریح رحمہ اللہ اسے وارث بناتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کی دیت اس کی میراث کے قائم مقام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16066]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16066 in Urdu