السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3268. -- باب: ما روي في عمد الصبي
-- باب: نابالغ بچے کے جان بوجھ کر (عمدًا) کیے گئے فعل (جرم) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16081
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ جَالِسًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْدُ الصَّبِيِّ وَخَطَؤُهُ سَوَاءٌ، فِيهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَاجْلِدُوهَا الْحَدَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے اور بچے کا عمداً یا خطاءً برابر ہے، اس میں کفارہ ہے اور جو بھی عورت اپنے غلام سے نکاح کرے تو اسے حد کے کوڑے مارو۔
یہ منقطع ہے اور اس کا راوی جابر جعفی ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی سند سے مروی ہے جس میں کمزوری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16081]
یہ منقطع ہے اور اس کا راوی جابر جعفی ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی سند سے مروی ہے جس میں کمزوری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16081]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16081 in Urdu